اعتراف
۔۔۔۔۔
کیا تمہیں بھی یاد ہے
ہم نے بھی تو پکڑی تھیں
رنگ رنگ تتلیاں
چند لمحوں کے لیے
ہاتھ میں جو رہتی تھیں
ہم یہی سمجھتے تھے
مل گئی ہو جس طرح
ہم کو ساری کائنات
میری مٹھی میں دبا
تھا تمہارا پیار بھی
پر نجانے کس طرح
تتلیوں سا پیار وہ
قید رکھنے کے لیے
بند تھی جو آج تک
میری مٹھی کھل گئی
Related posts
-
شاہین عباس ۔۔۔ دو کا دھوکا
دو کا دھوکا ۔۔۔۔۔۔۔۔ طہارت کاقضیہ…دُہرا دجلہ دُہری تہری ناف کا ڈھلکا میں دو کوزوں کو... -
امجد اسلام امجد ۔۔۔ حد
حد سوچا بہت ، پہ کھل نہ سکا آج تک ، کہ کیوں کرتے ہیں لوگ... -
ضد ۔۔۔ پروین شاکر
ضد ۔۔۔۔ میں کیوں اُس کو فون کروں! اُس کے بھی تو علم میں ہو گا...
